اسلام آباد،18؍اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ میں ایک کار بم دھماکے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد جاں بحق اور بائیس زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ بظاہر ایک خود کش کار حملہ تھا، جس میں پولیس کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ہلاکت خیز حملہ بلوچستان کے دارالحکومت کے مضافاتی علاقے سریاب میں بدھ کے روز صبح قریب پونے نو بجے کیا گیا۔ اس حملے میں کم از کم پانچ پولیس اہلکاروں اور دو شہریوں سمیت سات افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ زخمیوں کی تعداد بائیس بتائی گئی ہے، جن میں سے متعدد شدید زخمی ہیں۔سرکاری ٹی وی کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، وہ صوبائی پولیس کے ایلیٹ دستوں کی ایک گاڑی تھی، جس میں سوار اہلکار صبح مصروفیت کے اوقات میں اپنی ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کی گاڑی دراصل ایک ٹرک تھا، جس میں تیس سے زائد اہلکار سوار تھے۔اس دھماکے کے بعد صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے صحافیوں کو بتایا کہ مرنے والوں میں سے پانچ پولیس اہلکار ہیں اور ایک عام شہری۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس حملے میں پانچ پولیس اہلکاروں کے علاوہ دو عام شہری جاں بحق ہوئے۔کوئٹہ میں پولیس کے اعلیٰ حکام نے اس حملے میں ہلاک شدگان کی تعداد سات اور زخمیوں کی تعداد بیس سے زائد بتائی ہے۔ طبی ذرائع نے مطابق اس حملے کے بعد سات افراد کی لاشیں ایک مقامی ہسپتال میں لائی گئیں جبکہ زخمیوں کی تعداد چوبیس ہے، جن میں سے تیرہ کوئٹہ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے مطابق اس واقعے میں حملہ آور نے اپنی گاڑی کو پولیس کی گاڑی سے ٹکرا دیا، جس کے بعد دھماکا ہوا اور حملہ آور کی گاڑی کو آگ بھی لگ گئی۔ بگٹی کے بقول یہ حملہ بظاہر ایک خود کش حملہ تھا۔ اسی قوی امکان کی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار عبدالرزاق چیمہ نے بھی تصدیق کر دی۔بلوچستان جنوب مغربی پاکستان کا ایسا صوبہ ہے، جو تیل، گیس اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں۔ اس صوبے میں شدت پسند مسلم گروہ بھی فعال ہیں اور فرقہ پرست مذہبی گروپوں کے علاوہ کئی مسلح بلوچ قوم پسند تنظیمیں بھی۔ ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔